اہم ترین

گلگت بلتستان میں لاپتہ افراد کی تعداد 34 تک پہنچ گئی،

دنیور سے 13 سالہ بچہ بھی 23 دن سے لاپتہ

گلگت بلتستان میں لاپتہ افراد کی تعداد 34 تک پہنچ گئی، دنیور سے 13 سالہ بچہ بھی 23 دن سے لاپتہ

گلگت (شیرین کریم) گلگت بلتستان میں لاپتہ افراد کے کیسز میں خطرناک اضافہ ہو رہا ہے۔ دنیور سے تعلق رکھنے والا 13 سالہ ارشاد گزشتہ 23 دنوں سے لاپتہ ہے۔ ارشاد غریب والدین کا بیٹا ہے اور کئی ہفتے گزرنے کے باوجود قانون نافذ کرنے والے ادارے بچے کو ڈھونڈنے میں ناکام ہیں۔ اہل خانہ کی اپیل سوشل میڈیا پر بھی وائرل ہوئی ہے جس میں وہ اپنے بچے کی بازیابی کے لیے عوام اور حکام سے مدد مانگ رہے ہیں۔

ارشاد کے لاپتہ ہونے کے خبر سے پہلے گلگت کنوداس کا رہائشی یاسین سے تعلق رکھنے والا ایک اور نوجوان کاشان کے قتل کا واقعہ پیش آ چکا ہے۔ کاشان کا تعلق یاسین سے تھا مگر وہ گلگت کونوداس میں مقیم تھا۔ اس واقعے نے علاقے میں خوف و ہراس مزید بڑھا دیا ہے۔ ان واقعات کے بعد شہریوں اور والدین میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے۔
پولیس نے مختلف مقامات پر چھاپے مارنے کے ساتھ ساتھ رات 10 بجے کے بعد سنوکر کلب اور گیمنگ زونز بند کرنے کے احکامات بھی جاری کیے ہیں تاکہ بچوں کی نگرانی بہتر کی جا سکے۔

پولیس کے اعداد و شمار کے مطابق 2017 سے اب تک گلگت بلتستان کے تینوں ڈویژنوں میں لاپتہ افراد کے کیسز درج ہیں۔ گلگت ڈویژن میں کل 24 افراد لاپتہ ہیں جن میں گلگت ضلع سے 10، غذر ضلع سے 10، نگر ضلع سے 3 اور ہنزہ ضلع سے 1 شامل ہیں۔ بلتستان ڈویژن میں 9 افراد لاپتہ ہیں جن میں سکردو ضلع سے 3، گانچھے ضلع سے 2 اور کھرمنگ ضلع سے 4 افراد شامل ہیں، جبکہ شگر سے کوئی کیس رپورٹ نہیں ہوا۔ دیامر-استور ڈویژن میں صرف 1 کیس رپورٹ ہوا ہے جو دیامر ضلع سے سامنے آیا ہے، جبکہ استور میں کوئی کیس رپورٹ نہیں ہوا۔
گلگت بلتستان میں لاپتہ افراد کی تعداد کل 34 تک پہنچ گئی ہے جو کہ نہایت تشویش ناک صورتحال ہے۔

مقامی رہائشیوں کا کہنا ہے کہ اس نوعیت کے واقعات ماضی میں شاذ و نادر ہی دیکھنے کو ملتے تھے، مگر حالیہ اضافے نے علاقے میں خوف و ہراس پھیلا دیا ہے۔ والدین خصوصاً اپنے بچوں کی حفاظت کے حوالے سے شدید پریشان ہیں۔ پولیس حکام کے مطابق متعدد مقامات پر چھاپے مارے گئے ہیں اور بچوں کی حفاظت کو یقینی بنانے کے لیے گلگت شہر میں رات 10 بجے کے بعد سنوکر کلب اور گیمنگ زونز بند کرنے کے احکامات جاری کیے گئے ہیں۔
پولیس بھی ان افراد کی بازیابی کیلیے کاروائی عمل میں لارہی ہے مگر مسلسل ناکام ہے۔
23 دن گزر گئیے مگر ارشاد کا ابھی تک کوئی سوراغ نہیں مل سکا۔

سماجی اور عوامی حلقوں نے حکومت اور قانون نافذ کرنے والے اداروں سے مطالبہ کیا ہے کہ لاپتہ افراد کی فوری بازیابی کے لیے شفاف اور مؤثر اقدامات کیے جائیں تاکہ علاقے میں پھیلے خوف و ہراس کا خاتمہ کیا جاسکے۔

شیرین کریم

شیرین کریم کا تعلق گلگت بلتستان سے ہے وہ ایک فری لانس صحافی ہیں جو مختلف لوکل ،نیشنل اور انٹرنیشنل اداروں کے ساتھ رپورٹنگ کرتی ہیں ۔ شیرین کریم فیچر سٹوریز ، بلاگ اور کالم بھی لکھتی ہیں وہ ایک وی لاگر بھی ہیں اور مختلف موضوعات خاص کر خواتین کے مسائل ,جنڈر بیسڈ وائلنس سمیت عوامی مسائل ،موسمیاتی تبدیلی اور دیگر مسائل پر اکثر لکھتی ہیں۔

متعلقہ مضامین

Back to top button